اتوار، 26 نومبر، 2023

تین طلاق [ اسلم سرفراز خان -چوپڑا ضلع جلگانو ] الله کے نزدیک جائز کاموں میں سب سے نا پسندیدہ کام طلاق دینا ہے _ لیکن جب کبھی دو زندگیاں دشوارہو جائے کہ ان کا ساتھ چلنا مشکل ہو جائے تو اسلام نے طلاق کا راستہ کھلا رکھا ہے _دراصل آج کل طلاق کے بارے میں جو غلط فہمیاں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں وہ ہماری کم علمی کا نتیجہ ہے _ آج ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرینگے کہ اسلام میں طلاق دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟ نکاح یا عقد کا مطلب ہوتا ہے گانٹھ باندھنا اور طلاق کا مطلب ہوتا ہے آزاد کرنا _ طلاق کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ اور ٹھنڈے دل و دماغ سے کرنا چاہیے جب کبھی یہ نوبت آئے تو پہلی سٹیپ یہ ہے کہ جیسا کے سوره نساء (آیت ٣٥ ) میں بتایا گیا ہے کہ شوہر کی طرف سے ایک اور بیوی کی طرف سے ایک حاکم [ آربیٹر] یعنی پنچ منتخب کرے جو دونوں کے مسائل کا حل نکالے اور کوئی ایسا فیصلہ کردے کہ طلاق کی نوبت ہی نہ آئے– اس کے بعد بهی اگر طلاق دینے کی نوبت آ جائے تو دو ثقہ گواہوں کی موجودگی میں طلاق دیں -(سوره طلاق 2) طلاق دینے کے تین طریقے ہیں،.............. ١)احسن ٢)حسن ٣)بدعی اب اگر کوئی طلاق دینا چاہے تو بیوی کو طہر [یعنی پاکی کی وہ حالت جس میں اس سے قربت نہ کی ہو ] صرف اور صرف ایک طلاق دے اور جیسا کہ سوره طلاق (آیت ١) میں بیان ہوا ہے کی اس دوران بیوی کو اپنے گھر سے نہ نکالے اور بیوی بھی شوہر کے گھر سے نہ نکلے کیونکہ بیوی ابھی عدّت یعنی(مدّت/گنتی )کی حالت میں ہے – یہ بہت بڑی حکمت ہے کہ اس دوران شوہر کو اپنی غلطی کا احساس ہو یا بیوی اپنی اصلاح کر لے یا شوہر کو بیوی کی ضرورت محسوس ہو اور وہ طلاق کے بعد بیوی سے عدّت کے دوران رجوع کر لے – ہمارے معاشرے میں طلاق کے فورا بعد بیوی کو میکے پہنچا دیا جاتا ہے اور لوگ ایک کی دو بات لگا کر بات بڑھا دیتے ہیں اور اصلاح اور میل ملاپ کا دروازہ پہلے ہی بند کر دیا جاتا ہے – بیوی کو گهر میں رکهنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ الله کو کیا مطلوب ہے یعنی نکاح کے وقت ایک مرتبہ قبول کر لینے سے عورت فورا بیوی بن جاتی ہے لیکن ایک مرتبہ طلاق کہنے کے بعد بھی بیوی فورا نکاح سے نہیں نکلتی بلکہ انھیں سوچنے سمجھنے کے لئے کافی وقت دیا جاتا ہے یعنی خدا گھر کو آخری حد تک جوڑے رکھنا چاہتاہے - یہ بات ہمیشہ یاد رہے کہ ایک طلاق پوری طلاق ہوتی ہے جس سے بیوی [ عدّت کے بعد یعنی تین پیریڈ کے بعد اگر اس سے دوران عدّت رجوع نہیں کیا تو] جدا ہو جاتی ہے – ہم لوگ یہ سمجھتے ہے کہ جب تک بیوی کو تین طلاق نہیں دینگے تب تک بیوی الگ نہیں ہونگی – ہمارے یہاں کورٹ کچہری میں بھی وکیل تین طلاق لکھ دیتے ہیں جس سے یہ غلط میسج جاتا ہے کہ جب تک تین طلاق نہ دے بیوی جدا نہیں ہوسکتی – یعنی شوہر نے ایک طلاق دی ہے اور بیوی اس کے گھر میں ہے یا میکے چلی گئی گی ہے ابھی وہ عدّت [تین پیریڈ ] گزار رہی ہے اگر اس دوران شوہر بیوی سے رجوع کرلے تو وہ دونوں بغیر نکاح کے پھر سے اپنی زندگی گزار سکتے ہے اس میں دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں مگر شوہر کو جو تین طلاق کا حق دیا گیا تھا اس نے ایک کو استمعال کر لیا – اب اسے صرف دو بار آئندہ زندگی میں طلاق کا حق حاصل ہونگا- اور اگر شوہر عدّت یعنی تین پیریڈ کے اندر رجوع نہیں کرتا تو عورت بائن یعنی جدا ہو جائے گی – اب شوہر اور بیوی بلکل الگ اور پراے ہو گئے ہیں اور عورت جہاں چاہے وہاں نکاح کر سکتی ہے – مگر اس میں یہ گنجائش باقی ہے کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے بھی نئے مہر پر دوبارہ نکاح کر سکتی ہے اور گھر والوں کو اسے اسی شوہر سے دوبارہ نکاح کرنے سے نہیں روکنا چاہئے جیسا کہ سوره بقرہ (آیت ٢٣٢ ) میں ہے – یعنی یہ لوگ زندگی میں کبھی بھی دو چار سال میں دوبارہ نکاح کر سکتے ہے – طلاق دینے کے اس طریقه کو احسن یعنی بہت اچھا طریقہ کہا گیا ہے- یہ طریقہ قران و سنّت نے ہمیں بتایا ہے اور یہی سب کے نزدیک صحیح طریقہ ہے- اب دوبارہ نکاح کرنے کے بعد دو، چار،پانچ سال میں کبھی اور طلاق کی نوبت آ جائے تو یہی پروسیجر دوبارہ چلے گی یعنی شوہر پاکی کی حالت میں بیوی کو طلاق دیگا اس دوران بیوی اس کے گھر ہی میں رہے گی اگر عدّت کے اندر اس نے رجوع کر لیا تو نکاح کی ضرورت نہیں اور رجوع نہیں کیا اور عدّت گزر گی تو میاں بیوی الگ ہو گئے اب بیوی جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے اور اپنے پہلے شوہر سے بھی پھر سے نکاح ہو سکتا ہے – اب شوہر نے دو طلاقوں کا استعمال کر لیا اب جب کبھی وہ طلاق دیگا وہ تیسری طلاق ہونگی جس کے بعد شوہر اس سے نکاح نہیں کر سکتا – جب تک وہ نیچرل طور پر کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے اور وہ اسے طلاق دے دے اور عدت نہ گزر جائے - یہ نکاح صحیح طور پر ہونا چاہیے [سوره بقرہ ٢٣٠ ] تیسری طلاق کے بعد پھر سے نکاح کرنے کے لئے نکاح کو ارینج کرنا جسے "حلالہ " کہتے ہے اس پر الله کے رسول نے لعنت فرمائی ہے[ ابوداود 2077 ] - الطلاق مرتن [سوره بقرہ ٢٢٩ ] کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کو نکاح کے بعد دو مرتبہ طلاق دینے اور رجوع یا نکاح کرنے کا حق حاصل ہے لیکن جب وہ تیسری بار اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ اس سے نکاح کرنے کا حق کھو دیتا ہے سواے اوپر کی صورت کے – اگر اس بات پر سوچا جائے اور عرب معاشرے کا مطالعہ کیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہے کہ وہ لوگ بے حد و بے حساب طلاق دیتے تھے یعنی بیوی کو نہ رکھتے نہ آزاد کرتے یعنی بار بار طلاق دیتے اور بار بار رجوع کرتے جس سے عورت کی زندگی دشوار ہو جاتی ہر کام کی کوئی نا کوئی لمٹ ہونی چاہیے یا نہیں؟ اس لئے اسلام نے طلاق کو تین طلاق تک محدود کر دیا اور اس کھیل پر پابندی لگادی کے اب تم تیسری بار طلاق دے دو تو اب نکاح نہیں کر سکتے- تو یہ تین طلاق عورت کے لئے اس لیے بہترہے کہ کوئی اس کی زندگی کو کھیل نہ بنائے - لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے تین طلاقوں کو بحث کا موضوع بنا رہے ہیں - بس ہمیں کرنا یہ ہے کہ معاشرے میں لوگوں کو ایجوکیٹ کرے کے ہم کسی بھی حالت میں ایک ساتھ تین طلاق نہ دے بلکہ وہی طریقے سے طلاق دے جو اوپر بیان کیا گیا ہے اور دین نے ہمیں بتایا ہے- اس کام کی تحریک چلانے کی ضرورت ہے - طلاق دینے کا ایک دوسرا طریقہ بھی رائج ہے جس کو حسن یعنی اچّھا طریقہ کہتے ہیں اس میں عورت کو ہر پیریڈ کے بعد پاک ہونے پر ایک طلاق دی جاتی ہے یعنی تین مہینے میں تین طلاق دی جاتی ہے یعنی ہر مہینے میں ایک – اور طلاق دینے کا تیسرا طریقہ جسے بدعی یعنی بدعت کہتے ہیں جو سب کے نزدیک گناہ اور نا جائز ہے جس میں ایک ساتھ یعنی ایک ہی بار میں تین طلاقیں دے دی جاتی ہیں – رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے سے کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے "میرے تمہارے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی تم اللہ کی کتاب (قران) کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگے ہو - نسائی 3430 اب تو دنیا کے 20 مسلم ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی تین طلاق پر پابندی لگا دی گئی ہے اس کے لیے قانون The Muslim Women (Protection of Rights on Marriage) Act, 2019 بنا دیا گیا ہے جس کی دفعہ 3 کے مطابق تحریری یا کسی بھی الیکٹرانک ذرائع سے دی گئی تین طلاقیں غیر قانونی ہوگی جس میں تین سال کی قید اور جرمانے کا پراودھان ہے۔ ہم یہ بحث نہ کرتے ہوئے کہ یہ ایک ساتھ دی گئی تین طلاقیں ہو جاتی ہیں یا نہیں یہ بتانا چاہیں گے کہ یہ طریقہ سب کے نزدیک منع ہے – پھراسے کیوں کر اختیار کیا جائے جبکہ ہمارے پاس احسن طریقہ موجود ہے – .......واللہ اعلم

  تین طلاق                                                         [   اسلم سرفراز خان -چوپڑا ضلع جلگانو   ]


 الله کے نزدیک جائز  کاموں میں سب سے نا پسندیدہ کام طلاق دینا ہے _ لیکن جب کبھی دو زندگیاں دشوارہو

جائے کہ  ان کا ساتھ چلنا مشکل ہو جائے تو اسلام نے طلاق کا راستہ کھلا رکھا ہے _دراصل آج کل طلاق کے بارے میں جو غلط فہمیاں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں  وہ ہماری کم علمی کا نتیجہ ہے _ آج ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرینگے کہ اسلام میں طلاق دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟ نکاح یا عقد کا مطلب ہوتا ہے گانٹھ باندھنا اور طلاق کا مطلب ہوتا ہے آزاد کرنا _ طلاق کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ اور ٹھنڈے دل و دماغ سے کرنا چاہیے جب کبھی یہ نوبت آئے تو پہلی سٹیپ یہ ہے کہ جیسا کے سوره نساء (آیت ٣٥ ) میں بتایا گیا ہے کہ شوہر کی طرف سے ایک اور بیوی کی طرف سے ایک حاکم  [ آربیٹر]  یعنی پنچ منتخب کرے جو دونوں کے مسائل کا حل نکالے اور کوئی ایسا فیصلہ کردے کہ طلاق کی نوبت ہی نہ آئے–  اس کے بعد بهی اگر طلاق دینے کی نوبت آ جائے تو دو ثقہ گواہوں کی موجودگی میں طلاق  دیں -(سوره طلاق 2) 

طلاق دینے کے تین طریقے ہیں،..............


١)احسن ٢)حسن ٣)بدعی


 اب اگر کوئی طلاق دینا چاہے تو بیوی کو طہر [یعنی پاکی کی وہ حالت جس میں اس سے قربت نہ کی ہو ] صرف اور صرف ایک طلاق دے اور جیسا کہ سوره طلاق (آیت ١) میں بیان ہوا ہے کی اس دوران بیوی کو اپنے گھر سے نہ نکالے اور بیوی بھی شوہر کے گھر سے نہ نکلے کیونکہ بیوی ابھی عدّت یعنی(مدّت/گنتی )کی حالت میں ہے – یہ بہت  بڑی حکمت ہے کہ اس دوران شوہر کو اپنی غلطی کا احساس ہو یا بیوی اپنی اصلاح کر لے یا شوہر کو بیوی کی ضرورت محسوس ہو اور وہ طلاق کے بعد بیوی سے عدّت کے دوران رجوع کر لے – ہمارے معاشرے میں طلاق کے فورا بعد بیوی کو میکے پہنچا دیا جاتا  ہے اور لوگ ایک کی دو بات لگا کر بات بڑھا دیتے ہیں اور اصلاح اور میل ملاپ کا دروازہ پہلے ہی بند کر دیا جاتا ہے – بیوی کو گهر میں رکهنے سے   یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ الله کو کیا مطلوب ہے یعنی نکاح کے وقت  ایک مرتبہ قبول کر لینے سے عورت فورا بیوی بن جاتی ہے لیکن ایک مرتبہ طلاق کہنے کے بعد بھی بیوی فورا نکاح سے نہیں نکلتی بلکہ انھیں سوچنے سمجھنے کے لئے کافی وقت دیا جاتا ہے یعنی خدا گھر کو آخری حد تک جوڑے رکھنا چاہتاہے -   یہ بات ہمیشہ یاد رہے کہ ایک طلاق پوری طلاق ہوتی ہے جس سے بیوی [ عدّت کے بعد یعنی تین پیریڈ کے بعد اگر اس سے دوران عدّت رجوع نہیں کیا تو] جدا ہو جاتی ہے – ہم لوگ یہ سمجھتے ہے کہ جب تک بیوی کو تین طلاق نہیں دینگے تب تک بیوی الگ نہیں ہونگی – ہمارے یہاں کورٹ کچہری میں بھی وکیل تین طلاق لکھ دیتے ہیں جس سے یہ غلط میسج جاتا ہے کہ جب تک تین طلاق نہ دے بیوی جدا نہیں ہوسکتی –


یعنی شوہر نے ایک طلاق دی ہے اور بیوی اس کے گھر میں ہے یا میکے چلی گئی گی ہے  ابھی وہ عدّت [تین پیریڈ ] گزار  رہی ہے اگر اس دوران شوہر بیوی سے رجوع کرلے تو وہ  دونوں بغیر نکاح کے پھر سے اپنی زندگی گزار سکتے ہے اس میں دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں مگر شوہر کو جو تین طلاق کا حق دیا گیا تھا اس نے ایک کو استمعال کر لیا   – اب اسے صرف دو بار آئندہ زندگی میں طلاق کا حق حاصل ہونگا- اور اگر شوہر عدّت یعنی تین پیریڈ کے اندر رجوع نہیں کرتا تو عورت بائن یعنی جدا ہو جائے گی – اب شوہر اور بیوی بلکل الگ اور پراے ہو گئے ہیں اور عورت جہاں چاہے وہاں نکاح کر سکتی ہے – مگر اس میں یہ گنجائش باقی ہے کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے بھی  نئے مہر پر دوبارہ نکاح کر سکتی ہے اور گھر والوں کو اسے اسی شوہر سے دوبارہ نکاح کرنے سے نہیں روکنا چاہئے جیسا کہ سوره بقرہ (آیت ٢٣٢ ) میں ہے – یعنی یہ لوگ زندگی میں کبھی بھی دو چار سال میں دوبارہ نکاح کر سکتے ہے – طلاق دینے کے اس طریقه کو احسن یعنی بہت اچھا طریقہ کہا گیا ہے- یہ  طریقہ قران و سنّت نے ہمیں بتایا ہے اور یہی سب کے نزدیک صحیح طریقہ ہے- اب دوبارہ نکاح کرنے کے بعد دو، چار،پانچ سال میں کبھی اور طلاق کی نوبت آ جائے تو یہی پروسیجر دوبارہ چلے گی  یعنی شوہر پاکی کی حالت میں بیوی کو طلاق دیگا اس دوران بیوی اس کے گھر ہی میں رہے گی اگر عدّت کے اندر اس نے رجوع کر لیا تو نکاح کی ضرورت نہیں اور رجوع نہیں کیا اور عدّت گزر گی تو میاں بیوی الگ ہو گئے اب بیوی جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے اور اپنے پہلے شوہر سے بھی پھر سے نکاح ہو سکتا ہے – اب شوہر نے دو طلاقوں کا استعمال کر لیا اب جب کبھی وہ طلاق دیگا وہ تیسری طلاق ہونگی جس کے بعد شوہر اس سے نکاح نہیں کر سکتا –  جب تک وہ نیچرل طور پر کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے اور وہ اسے طلاق دے دے اور عدت نہ گزر جائے  - یہ نکاح صحیح طور پر ہونا چاہیے [سوره بقرہ ٢٣٠ ] تیسری طلاق کے بعد پھر سے نکاح کرنے کے لئے نکاح کو ارینج کرنا جسے "حلالہ " کہتے ہے اس پر الله کے رسول نے لعنت فرمائی ہے[ ابوداود 2077    ] - الطلاق مرتن [سوره بقرہ ٢٢٩ ] کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کو نکاح کے بعد دو مرتبہ طلاق دینے اور رجوع یا نکاح کرنے کا حق حاصل ہے لیکن جب وہ تیسری بار اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ اس سے نکاح کرنے کا حق کھو دیتا ہے سواے اوپر کی صورت کے – اگر اس بات پر سوچا جائے اور عرب معاشرے کا مطالعہ کیا جائے  تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہے کہ وہ لوگ بے حد و بے حساب طلاق دیتے تھے یعنی بیوی کو نہ رکھتے نہ آزاد کرتے یعنی بار بار طلاق دیتے اور بار بار رجوع کرتے جس سے عورت کی زندگی دشوار ہو جاتی ہر کام کی کوئی نا کوئی لمٹ ہونی چاہیے یا نہیں؟


اس لئے اسلام نے طلاق کو تین طلاق تک محدود کر دیا اور اس کھیل پر پابندی لگادی کے اب تم تیسری بار طلاق دے دو تو اب نکاح نہیں کر سکتے- تو یہ تین طلاق عورت کے لئے اس لیے بہترہے  کہ کوئی اس کی زندگی کو کھیل نہ   بنائے - لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے تین طلاقوں کو بحث کا موضوع بنا رہے ہیں - بس ہمیں کرنا یہ ہے کہ معاشرے میں لوگوں کو ایجوکیٹ کرے کے ہم کسی بھی حالت میں ایک ساتھ تین طلاق نہ دے بلکہ وہی طریقے سے طلاق دے جو اوپر بیان کیا گیا ہے اور دین نے ہمیں بتایا ہے- اس کام کی تحریک چلانے کی ضرورت ہے -  

      طلاق دینے کا ایک دوسرا طریقہ بھی رائج ہے جس کو حسن یعنی اچّھا طریقہ کہتے ہیں  اس میں عورت کو ہر پیریڈ کے بعد پاک ہونے پر ایک طلاق دی جاتی ہے یعنی تین مہینے میں تین طلاق دی جاتی ہے یعنی ہر مہینے میں ایک –


     اور طلاق دینے کا تیسرا طریقہ جسے بدعی یعنی بدعت کہتے ہیں  جو سب کے نزدیک گناہ اور نا جائز ہے جس میں ایک ساتھ یعنی ایک  ہی بار میں تین طلاقیں دے دی جاتی  ہیں  –  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں  (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے سے کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے "میرے تمہارے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی تم اللہ کی کتاب (قران) کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگے ہو - نسائی 3430

اب تو دنیا کے 20 مسلم ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی تین طلاق پر پابندی لگا دی گئی ہے اس کے لیے قانون 

The Muslim Women (Protection of Rights on Marriage) Act, 2019

بنا دیا گیا ہے جس کی دفعہ 3 کے  مطابق تحریری یا کسی بھی الیکٹرانک ذرائع سے دی گئی تین طلاقیں غیر قانونی ہوگی جس میں تین سال کی قید اور جرمانے کا پراودھان ہے۔

 ہم یہ بحث نہ کرتے ہوئے کہ یہ ایک ساتھ دی گئی تین طلاقیں ہو جاتی ہیں  یا نہیں یہ بتانا چاہیں گے کہ یہ طریقہ سب کے نزدیک منع ہے – پھراسے کیوں کر اختیار کیا جائے جبکہ ہمارے پاس احسن طریقہ موجود ہے –                                    .......واللہ اعلم